Saturday, July 11, 2020

Answers of para 4 part 2

*بسم اللہ الرحمن الرحیم*
*پارہ 4* *لن تنالوا*

      *Lesson 2*
       

 

*سورہ ال عمران ایت نمبر126 تا 164*  *ربع تا نصف*
🌺🌹🌺🌹🌺🌹🌺🌺

*سوال نمبر 1*ایت نمبر128 میں رسول اللہ کو کس بات کی تنبہہ اور یاد دھانی کرائ جارھی ہے؟ اس سے کس بات کی دلیل ملی؟ ترجمہ اور تفسیر سے واضح کریں                   
جواب
🎀🎀🎀🎀🎀🎀🎀🎀

*سوال نمبر 2* : آیت نمبر134 میں محسنین کی کون سی تین صفات کا ذکر کیا جارہا ہے؟
*جواب*
🎀🎀🎀🎀🎀🎀🎀🎀              

*سوال نمبر 3*: آیت 135: متقین سے جب کوئی غلط  کام ہو جائے تو وہ کیا کرتے ہیں؟
جواب۔۔۔۔
🎀🎀🎀🎀🎀🎀🎀🎀
*سوال نمبر 4*:ایت نمبر 144مین کس بات کی دلیل صاف ملتی یے؟ ترجمہ اور تفسیر سے جواب دیں
*جواب*:
🎀🎀🎀🎀🎀🎀🎀🎀
*سوال نمبر5*:آیت نمبر 152 جنگ احد میں مسلمانوں کی ناکامی کی کیا تین وجوہات تھیں؟؟ آیت سے جواب دیں
جواب۔۔۔۔۔۔
🎀🎀🎀🎀🎀🎀🎀🎀
*سوال نمبر6* :آیت نمبر 154: جنگ احد میں غم پر غم کیا تھا؟تفسیر سے جواب دیں
جواب۔۔۔۔
🎀🎀🎀🎀🎀🎀🎀🎀
*سوال نمبر 7*: آیت نمبر156سے158 میں موت  کے متعلق کیا عقیدہ بتایا جارھا ہے؟؟ترجمہ اور تفسیر سے مختصر لکھیں
*جواب*۔۔۔۔
🎀🎀🎀🎀🎀🎀🎀🎀
*سوال نمبر 8*: آیت 159 میں اچھے  لیڈر کی کیا خصوصیات بتائی جارہی ہیں؟؟آیت سے  جواب دیں
جواب۔۔۔۔۔ 🌸🥦🌸🥦🌸🥦

Answer 1:
 اس آیت میں کہا جارہا ہے کہ اے پیغمبر آپ کے اختیار میں کچھ بھی نہیں اللہ تعالی چاہے تو ان کی توبہ قبول کریں یہ عذاب دے کیونکہ وہ ظالم ہیں  اس میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس بات کی تنبی کی جارہی ہے کہ کہ کافروں کو ہدایت دینا اور ان کے معاملے میں کسی قسم کا فیصلہ کرنا سب اللہ کے اختیار میں ہے اللہ تعالی جسے چاہے اس کی توبہ قبول کریں یا عذاب دے  یہ صرف اللہ تعالی کے اختیار میں ہے اور اس سے ہمیں اس بات کی بھی دلیل ملتی ہے کہ جو لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مختار کل قرار دیتے ہیں یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اتنا اپنا اختیار  نہ تھا راہ راست پر لگادیں
 Answer  2
 جو لوگ آسانی میں اور سختی کے موقع پر بھی اللہ کے راستے میں خرچ کرتے ہیں اور غصہ پینے والے اور لوگوں سے درگزر کرنے والے ہیں اللہ تعالی ان نیک کاروں سے محبت کرتا ہے یعنی بحشالی میں نہیں تنگدستی کے موقع پر بھی خرچ کرتے ہیں مطلب یہ ہے کہ ہر حال میں اور ہر موقع پر اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں جب غصہ  آتا ہے تو ان کو معاف کر دیتے ہیں جو ان کے ساتھ برائی کرتے ہیں
 Answer 3
 یہاں متقین کا ذکر ہے کہ جب پہنچے کوئی ناشائستہ کام ہوجائے یا کوئی گناہ کر بیٹھے تو فورا اللہ کا ذکر اپنے گناہوں کے لئے استغفار کرتے ہیں یعنی جب نصیب تقاضہ بشریات کسی غلطی یا گناہ کا ارتکاب ہو جاتا ہے تو فورا توبہ و استغفار کا اہتمام کرتے ہیں اور وہ لوگ باوجود علم کے کسی برے کام پر اڑ نہیں جاتے
Answer 4
: عیسائیت میں اس بات کی صاف دلیل موجود ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم صرف رسول ہی ہیں یعنی ان کا امتیاز بھی وصول رسالت ہی ہے یہ نہیں کہ وہ بشری خصائص سے بالاتر خدائی صفات سے متصف ہوں کہ انہیں موت سے دوچار نہ ہونا پڑے
 Answer  5
 (1 )پست ہمتی اختیار 
کی 
(2) کام میں آپس میں جھگڑنے لگے
(3) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی کی
Answer 6
: احد میں مسلمانوں کو غم یہ ملا ... ابن جریر اور ابن کثیر کے اختیار کردہ راجح قول کے مطابق پہلے غم سے مراد ہے مال غنیمت اور کفار سے فتح و ظفر سے محرومی کا غم اور دوسرے غم سے مراد مسلمانوں کی شہادت, ان کے زخمی ہونے ,نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کی خلاف ورزی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خبر شہادت سے پہنچنے والا غم ہیں
: Answer 7
 اہل ایمان کو اس فسادی عقیدے سے روکا جارہا ہے جس کے حامل کفار اور مشرکین تھے اس کے برعکس یہ عقیدہ بتایا جارہا ہے کہ موت و حیات اللہ کے ہاتھ میں ہے اور موت کا ایک وقت مقرر ہے اور آیت نمبر 158 سورۃ آل عمران میں اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ بلیقین خواں تو مر جاؤ یا مار ڈالے جاؤ جمع تو اللہ تعالی ہی کی  طرف ہی کئے جاؤ گے
: ..Answer  8: اچھے لیڈر کو نرم دل ہونا چاہیے اگر لیڈر پر زبان اور سخت دل ہو گا تو لوگ اس سے پیچھے ہٹ جاتے ہیں لوگوں سے درگزر کرنے والے ہوں اور کام میں ان سے مشورہ کریں پھر جب وہ پختہ ارادہ کر لے تو پھر اللہ تعالی پر بھروسہ کریں یعنی مشاورت کے بعد جب رائے پختہ ہو جائے تو پھر اللہ تعالی پر توکل کرکے اسے کر گزرے

No comments:

Post a Comment