Monday, October 21, 2019

سورہ فاتحہ کو فاتحہ الکتاب کیوں کہا جاتا ہے اور حدیث میں اس کے اور کون سے نام ہیں

سورہ فاتحہ کو فاتحہ الکتاب کیوں کہا جاتا ہے اور حدیث میں اس کےاور کون سے نام ہیں.    ...

جواب ....

سورہ فاتحہ قرآن مجید کی سب سے پہلی سورت ہیں  جس کی احادیث میں بڑی فضیلت آئی ہے فاتحہ کے معنی آغاز اور ابتدا کے ہیں اس لئے اسے الفاتحہ یعنی فاتحہ الکتاب کہا جاتا ہے اس کے اور بھی متعدد نام احادیث سے ثابت ہے مثلا ام القران, السبع المثانی والقرآن العظیم  الشفاء , ruqyaوغیرہ
اس کا ایک اہم نام صلاۃ  بھی ہے جیسا کہ حدیث قدسی میں ہے کہ اللہ تعالی نے فرمایا قسمت صلاتی بینی وبین عبدی الحدیث صحیح مسلم کتاب الصلوۃ حضرت جس میں نماز کو اپنے اور اپنے بندے کے درمیان تقسیم کر دیا مراد سورہ فاتحہ ہے جس کا نصف حصہ اللہ تعالی کی حمد و ثنا اور اس کی رحمت و ربوبیت اور عدل و بادشاہت کا بیان میں ہے اور نصف حصے میں دعا و مناجات ہے جو بندہ اللہ کی بارگاہ میں کرتا ہے اس حدیث میں صورت کو نماز سے تعبیر کیا گیا ہے جس سے یہ صاف معلوم ہوتا ہے کہ نماز میں اس کا پڑھنا بہت ضروری  ہے کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات کی روشنی میں اس کی خوب وضاحت کردی گئی ہے فرمایا اس شخص کی نماز نہیں جس نے سورہ فاتحہ نہیں پڑھی ری بڑی اس حدیث میں متن کا لفظ عام ہے جو ہر نمازی کو شامل ہے منفرد ہو یا امام کے پیچھے مقتدی , سری  نماز ہو یا جہری ,فرض نماز ہو یا نفل, نمازی کے لیے سورۃ فاتحہ کا پڑھنا ضروری ہے



سورہ فاتحہ کے آخر میں آمین کہنے کی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بڑی تاکید اور فضیلت بیان فرمائیے اس لئے امام اور مقتدی ہر ایک کو آمین کہنا چاہیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جہری نمازوں میں اونچی آواز میں آمین کہا کرتے تھے صحابہ کے دور ہے ابن ماجہ اور ابن کثیر

No comments:

Post a Comment