Thursday, June 25, 2020

صبغت اللہ سے کیا مراد ہے

صبغت اللہ سے کیا مراد ہے 
اس سے مراد  اللہ کا رنگ اختیار کرو  اور اللہ تعالی سے اچھا رنگ کس کا ہوگا  دراصل عیسائیوں نے ایک زرد رنگ کا پانی مقرر کر رکھا ہے جو ہر عیسائی بچے کو بھی اور ہر اس شخص کو بھی دیا جاتا ہے جس کو عیسائی بنانا مقصود ہوتا ہے اس رسم کا نام ان کے ہاں بپتسمہ ہے یہ ان کے نزدیک بہت ضروری ہے اس کے بغیر وہ کسی کو پاک تصور نہیں کرتے میں نے ان کی ان کی تردید فرمائی اور کہا کہ اصل رنگ تو اللہ کا رنگ ہے اس سے مراد وہ دین فطرت یعنی دین اسلام ہے ہے جس کی طرف ہر نبی نے اپنے اپنے دور میں اپنی اپنی امتوں کو دعوت دی یعنی دعوت توحید

Surah Baqrah ayat no 135

سورہ بقرہ آیت نمبر 135 یہود اور نصاری کیا کہتے تھے اور اللہ تعالی نے ان سے کیا فرمایا تفسیر سے بتائیں


 وَ قَالُوۡا کُوۡنُوۡا ہُوۡدًا اَوۡ نَصٰرٰی تَہۡتَدُوۡا ؕ قُلۡ بَلۡ مِلَّۃَ  اِبۡرٰہٖمَ  حَنِیۡفًا ؕ وَ مَا کَانَ مِنَ الۡمُشۡرِکِیۡنَ ﴿۱۳۵﴾ یہ کہتے ہیں کہ یہود و نصاریٰ بن جاؤ تو ہدایت پاؤ گے ۔  تم کہو بلکہ صحیح راہ پر ملت ابراہیمی والے ہیں ،  اور ابراہیم خالص اللہ کے پرستار تھے اور مُشرک نہ تھے ۔
یہودی مسلمانوں کو یہودیت کی اور عیسائی عیسائیت کی دعوت دیتے اور کہتے ہیں کہ ہدایت اسی محل اللہ تعالی نے فرمایا کہ ان سے کہو کہ ہدایت ملت ابراہیم کی پیروی میں ہے جو حنیف تھا یعنی الہ واحد کافرستان اور سب سے اور وہ مشرک  نہیں تھا جبکہ یہودیت اور عیسائیت دونوں میں شرک کی آمیزش موجود ہے

Surah Baqrah ayat no 132

حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت یعقوب علیہ السلام نے اپنی اولاد کو کیا وصیت کی تھی تفسیر سے بتائیں
حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت یعقوب علیہ السلام نے میں الدین کی وصیت اپنی اولاد کو فرمائیں جو یہودیت نہیں اسلام ہی ہے یہاں اس کی صراحت موجود ہے اور پرانے کریم پہدی میں دیگر متعدد مقامات پر بھی اس کی تفصیل آئے گی جیسا کہ,,,,,  ان الدین عنداللہ السلام,,,,, اللہ کے نزدیک دین اسلام ہی ہے

Surah Baqrah ayat no 129

سورہ بقرہ9 12 حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اللہ تعالی سے کن الفاظ میں دعا مانگی اور ان کی یہ دعا کس  صورت میں قبول  ہوئی
رَبَّنَا وَ ابۡعَثۡ فِیۡہِمۡ رَسُوۡلًا مِّنۡہُمۡ یَتۡلُوۡا عَلَیۡہِمۡ اٰیٰتِکَ وَ یُعَلِّمُہُمُ الۡکِتٰبَ وَ الۡحِکۡمَۃَ وَ یُزَکِّیۡہِمۡ ؕ اِنَّکَ اَنۡتَ الۡعَزِیۡزُ الۡحَکِیۡمُ ﴿۱۲۹﴾٪        
 اے ہمارے رب !ان میں انہیں میں سے رسول بھیج  جو ان کے پاس تیری آیتیں پڑھے ،  انہیں کتاب و حکمت  سکھائے اور انہیں پاک کرے  یقیناً تو غلبے والا اور حکمت والا ہے ۔ 
 یہ حضرت ابراہیم اور اسماعیل علیہ السلام کی آخری دعا ہے یہ بھی اللہ تعالی نے قبول فرمائی اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کی اولاد میں سے حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مبعوث فرمایا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں اپنے باپ حضرت ابراہیم علیہ  السلام کی دعا حضرت عیسی علیہ السلام کی بشارت رکھنے والدہ کا خواب ہو

ربنا تقبل منا کس نبی کی دعا ہے اور یہ کس وقت مانگی گئی

ربنا تقبل منا کس نبی کی دعا ہے اور یہ کس وقت مانگی گئی
یہ حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کی دعا ہے جو خانہ کعبہ کی دیواریں اوپر اٹھاتے جاتے تھے اور یہ کہتے جاتے تھے کہ اے ہمارے پروردگار تو ہم سے قبول فرما اور تو ہی سننے والا اور جاننے والا ہے 

Surah Baqrah ayat no 125

سورہ بقرہ آیت سورۃ بقرہ آیت 125 میں بیت اللہ کی کیا خصوصیات بیان کی گئی ہیں تفصیل سے بتائیں 
بیت اللہ کی دو خصوصیات بیان کی گئی ہیں ایک یہ کہ لوگوں کے لیے ثواب کی جگہ جگہ دوسرے معنی ہیں بار بار لوٹ کر آنے کی جگہ جو ایک مرتبہ بیت اللہ کی زیارت سے مشرف ہو جاتا ہے دوبارہ نہ آنے کے لیے بے قرار رہتا ہے یہ ایسا شوق ہے جس کی کمی تسکین نہیں ہوتی بلکہ روز افزوں بڑھتی رہتی ہے دوسری خصوصیت امن کی جگہ یعنی یہاں کسی دشمن کا بھی خوف نہیں رہتا چنانچہ زمانہ جاہلیت میں بھی لوگ حدود حرم میں کسی دشمن جان سے بدلہ نہیں لیتے تھے اسلام نے اس کے احترام کو باقی رکھا بلکہ اس کی مزید تاکید فرمائیں

Sura Baqrah ayat no 121

سورہ بقرہ آیت نمبر 121 
قرآن کو پڑھنے کا حق کیا ہے تفسیر میں سے کوئی تین حق بتائیں 
1,,, خوب توجہ اور غور سے پڑھتے ہیں جنت کا ذکر آتا ہے تو جنت کو سلام کرتے اور جہنم کا ذکر آتا ہے تو اسے پناہ مانگتے ہیں 
2,,, اس کے حلال کو حلال اور حرام کو حرام سمجھتے ہیں اور کلام الہی میں تحریف نہیں کرتے 
3,,, اس میں جو کچھ تحریر ہے لوگوں کو بتاتے ہیں اس کی کوئی بات چھپاتے نہیں
اللہ تعالی ہم سب کو قرآن مجید کو پڑھنے اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین
*قرآن کا حق*

 حضرت مولانا سجاد صاحب نعمانی فرماتے ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﮐﭽﮫ ﻧﺎﮔﺰﯾﺮ ﻣﺠﺒﻮﺭﯾﻮﮞ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﺍﯾﮏ ﺍﯾﺴﮯ ﺩﻭﺭ ﺳﮯ ﮔﺰﺭﺍ ﮐﮧ *ﻗﺮﺁﻥ* ﮐﻮ ﺷﺪﯾﺪ ﻣﺼﺮﻭﻓﯿﺎﺕ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﺑﺎﻟﮑﻞ ﻭﻗﺖ ﻧﮧ ﺩﮮ ﺳﮑﺎ۔ ﻣﺠﮭﮯ ﺑﮩﺖ ﺩﮐﮫ ﺍﻭﺭ ﺍﻓﺴﻮﺱ ﺗﮭﺎ ﻟﯿﮑﻦ ﺍﭘﻨﮯ ﺁﭖ ﮐﻮ ﯾﮧ ﺩﻻﺳﮧ ﺩﮮ ﮐﺮ ﻣﻄﻤﺌﻦ ﮐﺮﺗﺎ ﮐﮧ ﻣﺼﺮﻭﻓﯿﺎﺕ ﺍﻭﺭ ﻣﺸﮑﻼﺕ ﺧﺘﻢ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﯽ ﻗﺮﺁﻥ ﺳﮯ ﻧﺎﻃﮧ ﺟﻮﮌ لونگا۔ ﻭﻗﺖ ﯾﻮﻧﮩﯽ ﻣﺼﺮﻭﻓﯿﺖ ﮐﯽ ﻧﻈﺮ ﮨﻮﺗﺎ ﮔﯿﺎ ﮐﮧ ﺍﯾﮏ ﺩﻥ ﺍﭼﺎﻧﮏ ﺳﻮﺭہ ﻣﺰﻣﻞ ﮐﯽ ﯾﮧ ﺁﯾﺖ  سامنے ﺁﮔﺌﯽ :

" *ﻭَﺍﻟﻠَّﻪُ ﻳُﻘَﺪِّﺭُ ﺍﻟﻠَّﻴﻞَ ﻭَﺍﻟﻨَّﻬﺎﺭَ ﻋَﻠِﻢَ ﺃَﻥ ﻟَﻦ ﺗُﺤﺼﻮﻩُ ﻓَﺘﺎﺏَ ﻋَﻠَﻴﻜُﻢ ﻓَﺎﻗﺮَﺀﻭﺍ ﻣﺎ ﺗَﻴَﺴَّﺮَ ﻣِﻦَ ﺍﻟﻘُﺮﺁﻥِ ﻋَﻠِﻢَ ﺃَﻥ ﺳَﻴَﻜﻮﻥُ ﻣِﻨﻜُﻢ ﻣَﺮﺿﻰ ﻭَﺁﺧَﺮﻭﻥَ ﻳَﻀﺮِﺑﻮﻥَ ﻓِﻲ ﺍﻷَﺭﺽِ ﻳَﺒﺘَﻐﻮﻥَ ﻣِﻦ ﻓَﻀﻞِ ﺍﻟﻠَّﻪِ ﻭَﺁﺧَﺮﻭﻥَ ﻳُﻘﺎﺗِﻠﻮﻥَ ﻓﻲ ﺳَﺒﻴﻞِ ﺍﻟﻠَّﻪِ ﻓَﺎﻗﺮَﺀﻭﺍ ﻣﺎ ﺗَﻴَﺴَّﺮَ ﻣِﻨﻪُ*:

*ترجمہ: ﺍﻟﻠﮧ ﮨﯽ ﺩﻥ ﺍﻭﺭ ﺭﺍﺕ ﮐﺎ ﺣﺴﺎﺏ ﺭﮐﮭﺘﺎ ﮨﮯ ﺍﺳﮯ ﻣﻌﻠﻮﻡ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺗﻢ ﺍﻭﻗﺎﺕ ﮐﺎ ﭨﮭﯿﮏ ﺳﮯ ﺷﻤﺎﺭ ﻧﮩﯿﮟ ﺭﮐﮫ ﺳﮑﺘﮯ ﺍﺱ ﻟﺌﮯ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺗﻢ ﭘﺮ ﻣﮩﺮﺑﺎﻧﯽ ﻓﺮﻣﺎﺋﯽ ﭘﺲ ﺟﺘﻨﺎ ﻗﺮﺁﻥ ﺗﻢ ﺁﺳﺎﻧﯽ ﺳﮯ ﭘﮍﮪ ﺳﮑﺘﮯ ﮨﻮ ﭘﮍھو۔ ﺍﺳﮯ ﻣﻌﻠﻮﻡ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺗﻢ ﻣﯿﮟ ﮐﭽﮫ ﻟﻮﮒ ﻣﺮﯾﺾ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﮐﭽﮫ ﺭﺯﻕ ﺍﻭﺭ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﮯ ﻓﻀﻞ ﮐﯽ ﺗﻼﺵ ﻣﯿﮟ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﮐﭽﮫ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﯽ ﺭﺍﮦ ﻣﯿﮟ ﺟﮩﺎﺩ ﻣﯿﮟ ﻣﺼﺮﻭﻑ ﮨﯿﮟ ۔ ﭘﺲ ﺟﺘﻨﺎ ﻗﺮﺁﻥ ﺑﺂﺳﺎﻧﯽ ﭘﮍﮬﺎ ﺟﺎﺳﮑﺘﺎ ہے ﭘﮍﮪ ﻟﯿﺎ ﮐﺮو۔* (73:20)

کس قدر ﭘﯿﺎﺭ ﺑﮭﺮﯼ ﻧﺪﺍ ﮨﮯ میرے ﺍﻟﻠﮧ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺳﮯ۔  ﮐﮧ اے ﻣﯿﺮﮮ ﺑﻨﺪﮮ ﺗﺠﮭﮯ ﺑﯿﻤﺎﺭﯼ، روزی کی طلب(یعنی معیشت) ﺣﺘﯽ ﮐﮧ میری ﺭﺍﮦ ﻣﯿﮟ ﺟﮩﺎﺩ کرنا بھی ﻗﺮﺁﻥ پڑھنے ﺳﮯ ﻧﮧ ﺭﻭﮐﮯ۔ ﻣﯿﮟ ﺗﻤﮩﺎﺭﯼ ﺗﮭﻮﮌﯼ سی محنت ﮐﻮ ﺑﮭﯽ ﻗﺒﻮﻝ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﺗﻤﮩﺎﺭﯼ ﮐﻤﯽ ﺍﻭﺭ ﮐﻮﺗﺎﮨﯽ ﮐﻮ ﻣﻌﺎﻑ ﮐﺮ ﺩیتا ہوں بس میری طرف متوجہ ہوجا۔

کتنا مہربان ہے میرا رب جس نے مجھے اتنی ﺳﮩﻮﻟﺖ دے رکھی ہے اگر میں پھر بھی قرآن کو نہیں پڑھتا تو صرف اپنا ہی نقصان کرتا ہوں۔ کیونکہ میں قرآن پڑھونگا نہیں تو سمجھوں گا کیسے اور سمجھوں گا نہیں تو اسکے احکامات پر عمل کیسے کرونگا؟ یہ یاد رکھنا کہ قرآن کو اللہ نے ہم پر فرض کیا ہے۔

 *إِنَّ الَّذِي فَرَضَ عَلَيْكَ الْقُرْآنَ* 

بے شک(اے پیغمبر) جس (اللہ) نے تم پر *قرآن کو فرض کیا ہے*(28:85)

میری آپ سے درخواست ہے کہ قرآن کو اپنی ڈیلی روٹین میں شامل کریں اور روزانہ کم از کم ایک رکوع تو ترجمہ کے ساتھ سمجھ کر لازمی پڑھیں۔ ورنہ جو لوگ قرآن نہیں پڑھتے وہ قرآن کا یہ فرمان بھی سن لیں!! جب قیامت کے دن نبی کریم ﷺ ان کی شکایت اللہ سے اس طرح فرمائیں گے۔

 *وَقَالَ الرَّسُولُ يَا رَبِّ إِنَّ قَوْمِي اتَّخَذُوا هَٰذَا الْقُرْآنَ مَهْجُورًا* 

اور پیغمبرﷺ کہیں گے کہ اے میرے رب! بیشک میری امت نے *اس قرآن کو چھوڑ رکھا تھا* (25:30)

تو کوشش کریں کہ قرآن کو اپنی زندگی میں شامل رکھیں۔ ﺍﮔﺮ ﮐﺒﮭﯽ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﻣﯿﮟ ﻣﺠﺒﻮﺭ ﻭ ﻣﺼﺮﻭﻑ ﮨﻮﮔﺌﮯ ﺗﻮ اس آیۃ کو ﻧﮧ ﺑﮭﻮﻟﻨﺎ۔۔۔

*ﻓَﺎﻗﺮَﺀﻭﺍ ﻣﺎ ﺗَﻴَﺴَّﺮَ ﻣِﻦَ ﺍﻟﻘُﺮﺁﻥ* ِ 

*پس ﺟﺘﻨﺎ ﺁﺳﺎﻧﯽ ﺳﮯ ہوسکے اتنا قرآن ﭘﮍھ لیا کرو*۔

اللہ تعالیٰ ہم کو قرآن کریم پڑھنے اور سمجھنے والا بنادے اور اس پر عمل کرنے والا اسکو دوسرے لوگوں تک پہنچانے والا بنادے آمین۔